منقبت قبلہ راجہ صاحب
ہے نور عبادت سے چہرہ ضوبار ہمارے راجہ کا
اور عشق کے تیروں سے ہے دل افگار ہمارے راجہ کا
ہر سمت سے میکش آ آ کر عرفان کے ساغر پیتے ہیں
توحید کا بادہ خانہ ہے دربار ہمارے راجہ کا
اخلاص و وفا کے ہیروں سے بھرپور ہیں اسکی دوکانیں
ہے شہر تصوّف کی زینت بازار ہمارے راجہ کا
ہر کنج میں نخلِ تازہ ہیں ایمان و سکون و الفت کے
اک خلدِ بریں ہے دنیا میں گلزار ہمارے راجہ کا
ارباب وفا کے ہونٹوں پر ہیں تزکرے اُن کی عظمت کے
ہر خضرِ طریقت کرتا ہے پرچار ہمارے راجہ کا
یہ مجلسِ راجہ کا ہے اثر یہ فیض نگاہِ راجہ ہے
ہے مسندِ فقر پہ جلوہ گر ہر یار ہمارے راجہ کا
وہ حسن کے جلووؔں میں ڈوبا اُبھرا تو مجسم حسن تھا وہ
اک بار کیا جس نے آکر دیدار ہمارے راجہ کا
مشرق سے لے کے مغرب تک ہیں چرچے اُنکی سیرت کے
بے مثل ہے سارے عالم میں کردار ہمارے راجہ کا
ہم لوگ کسی بھی حالت میں محکوم نہیں ہیں غیروں کے
ہے راج ہماری دنیا میں اے زؔار ہمارے راجہ کا
صوفی محمد دین زار
کالا گجراں جہلم
Comments